9 جولائی 2012 - 19:30

تقریب نیوز۔۔۔ صدر محترم مولانا غلام رسول ملک صاحب اور سیکٹری جنرل جمعیت جناب عبدالرحمن بٹ صاحب کے ساتھ اسلامی اتحاد کے منشور کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور سیکٹری جنرل جمعیت نے تقریب نیوز اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ قرآن اور سنت کے دائرے میں جمعیت اہل حدیث کسی حد تک ملی اتحاد کو عملی شکل دینے کے لئے سب سے پیش پیش رہے گی۔

ابنا: کشمیر میں جمعیت اہلحدیث کا اسلامی یکجہتی کے لئے کیا کردار رہا ہے؟جموں و کشمیر اور خاص کر کشمیر میں ملٹی کلچر رہا ہے، ملٹی سیکٹس رہے ہیں، اور الحمد للہ جب سے میں نے بھی ہوش سنبھالا ہے میں نے دیکھا ہے کہ الحمد للہ ہر کوئی اپنے اپنے سیکٹ پر کہئے، مسلک پر کہئے چلتے رہے ہیں۔ کبھی دست بگریباں نہیں ہوئے۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ جمعیت اہلحدیث الحمد اللہ ریاست جموں و کشمیر میں آج کی تاریخ میں سب سے بڑی دینی جماعت ہے۔ لیکن یہ کہے بغیر نہیں رہوں گا کہ پندرہ لاکھ سے زائد ممبران، آٹھ سو سے زائد مساجد اور ڈیڑھ سو سے زائد اسکول ہمارے موجود ہیں۔ اور ہم چاہیں گے کہ ہمارے سارے انسٹی ٹیوشنز کو ہم اس مشن پر جو مشن ہمارے لئے رسول اکرم (ص) چھوڑ گئے ہیں۔ ‘‘قال اللہ، قال رسول اللہ (ص) قرآن اور حدیث’’ اُس کی آبیاری کے لئے استعمال کر یں تاکہ ایک ملی اتحاد پیدا ہوجائے۔

مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کئی مشکلات درپیش ہیں۔ لیکن جہاں تک ہمارے موقف کا تعلق، منہج کا تعلق ہے وہ قرآن اور سنت ہے اور قرآن اور سنت کے دائرے میں جمعیت اہل حدیث کسی حد تک ملی اتحاد کو عملی شکل دینے کے لئے سب سے پیش پیش رہے گی انشاء اللہ۔

جو مسلمانوں کا پوٹینشل ہے وہ مسلکی اختلاف میں ضائع کیا جاتا ہے۔ اس کو صحیح نہج دینے کے لئے کیا کچھ عملی تدبیر کی جاسکتی ہے؟ دیکھئے مسلکی اختلافات کی کئی قسمیں ہیں۔ کچھ ایسے اختلافات ہوتے ہیں جن پر کمپرومائز ہو ہی نہیں سکتا۔ کچھ اختلاف ایسے ہوتے ہیں جن کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ کبھی ایک بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے, کسی بڑے مشن کو حاصل کرنے کے لئے اگر انسان کو کوئی چھوٹا مشن یا کوئی چھوٹا مقصد قربان بھی کرنا پڑے وہ کر سکتا ہے اور کرنا چاہئے۔

جمعیت اہل حدیث سمجھتی ہے کہ موجودہ عالمی تناظر میں ملی اتحاد کی انتہائی ضرورت ہے۔ اور اس وقت ہر جماعت کو وسیع القلبی دکھانی ہوگی تاکہ باقی جو اغیار ہیں وہ ہمیں آپس میں Divide and rule کی پالیسی پر منتشر کرکے  اپنی دال سیکھ پر نہ چڑھائیں۔ مسلمانوں کو اس چیز پر غور کرنا ہوگا۔

میں واضح الفاظ میں کہوں گا کہ کچھ اختلافات ایسے ہوسکتے ہیں خدا نخواستہ کہ جن پہ کمپرومائز نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر اختلافات ہیں تو ہمیں ان سے بالاتر جاکے ملی اتحاد پر زیادہ اہمیت دینی چاہئے۔

عالم اسلام کیلئے اتحاد اور یکجہتی کے حوالے سے آپ کا کیا پیغام ہے؟میں ان کو کوئی پیغام نہیں دے سکتا ہوں، ہاں مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ قرآن و حدیث جو ہمیں ورثہ میں ملا ہے رسول اکرم (ص) کی وساطت سے اور جو انہوں (ص) نے آخری خطبے میں کہا ہے کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ اُن چیزوں کو جب تک ہم مضبوطی سے پکڑیں گے ہم گمراہ نہیں ہوپائینگے۔ اس تناظر میں میرا یہی پیغام ہوگا کہ ہم مکمل طور قرآن و سنت پر کاربند رہیں اور انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ ساری ملت جب قرآن اور سنت پر کاربند رہے گی تو ملی اتحاد خود بخود ہوجائےگا اور جتنے بھی چھوٹے چھوٹے اختلافات ہیں وہ بھی خود بخود مٹ جائینگے۔ انشاء اللہ۔.......

/169